رسائی کے لنکس

logo-print

یوگینڈا:44 بچوں کو جنم دینے والی خاتون پر مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی


فائل فوٹو

یوگینڈا میں 44 بچوں کو جنم دینے والی خاتون پر مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

مریم نباتانزی کی عمر اس وقت 40 سال ہے۔ ان کی شادی 28 برس قبل 12 سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ شادی کے بعد وہ 15 بار بچوں کو جنم دینے کے عمل سے گزری ہیں۔ اس دوران ان کے 6 بار جڑواں بچے، 4 بار تین بچے اور 5 بار چار بچے پیدا ہوئے۔

رپورٹس کے مطابق ڈاکٹرز نے مریم پر مزید بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ڈاکٹرز کا یہ اقدام ان رپورٹس کے بعد سامنے آیا جب یہ خبریں سامنے آئیں کی مریم مزید ایک اور بچہ پیدا کرنے کی خواہش مند ہیں کیونکہ ان کے والد کے 45 بچے تھے تاہم انہوں نے کئی شادیاں کی تھیں جن سے ان کی اولاد تھی۔

ماہرین کے مطابق مریم حیرت انگیز طور پر ایسی جسمانی ساخت کی حامل ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ ایک سے زائد بچوں کو جنم دیا۔

واضح رہے کہ یوگینڈا کی ان خاتون کے ہاں آخری بار چار سال قبل جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر 36 سال تھی جبکہ زچگی کے دوران ان کا ایک بچہ موت کا شکار ہو گیا تھا۔

مریم کے شوہر نے چار سال قبل انہیں چھوڑ دیا تھا جس کے بعد وہ اکیلے اپنے بچوں کی پرورش کرنے پر مجبور ہیں۔ اس وقت ان کے ساتھ 38 بچے رہتے ہیں۔

مریم کے مطابق جب ان کی شادی ہوئی تو ان کے شوہر کی عمر ان سے 28 سال زائد تھی اور اس وقت 40 سال کے تھے۔ ان کی شادی کے ایک سال بعد ہی 13 سال کی عمر میں ان کے جڑواں بچوں کی پیدائش ہوئی تھی۔

ان کا گھر چار کمروں پر مشتمل ہے جہاں ہر کمرے میں کم از کم 12 بچے سوتے ہیں۔ ان کی رہائش کافی کے باغات کے قریب ہے جہاں کبھی وہ خود اور ان کے بچے کام کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ یوگینڈا میں عمومی طور پر خاندان میں 5 سے بچے ہوتے ہی ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ فی عورت بچوں کی پیدائش کی اوسط بھی یوگینڈا میں ہے جہاں خواتین میں بچوں کی پیدائش کی شرح 5.6 فی صد ہے۔ جو باقی دنیا کے مقابلے میں دگنی ہے۔

مریم کا کہنا ہے کہ میری ساری زندگی بچوں کی پروش یا پھر گھر چلانے کے لیے کام کرکے پیسے کمانے میں گزر گئی ہے۔

انہوں نے پرانی اشیا خریدنے اور بیچنے کا کام بھی کیا ہے جبکہ کبھی حجام بھی بنی ہیں تو کبھی انہوں نے لوگوں کی تقریبات منعقد کرنے کے لیے ایونٹ آرگنائزر کے فرائض بھی انجام دیے ہیں۔

مریم اب ہربل مصنوعات فروخت کرنے کا کام کر رہی ہیں۔

ان کے بقول ان کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ ان کے تمام بچے تعلیم حاصل کریں۔

مریم نے اپنے گھر کی دیوار پر اپنے بچوں کی تصاویر آویزاں کی ہوئی ہیں۔ جن میں سب سے اوپر اس بچے کی تصویر ہے جو تعلیم کی تکمیل پر سند وصول کر رہا ہے۔

ایک جانب جہاں ان کی خواہش کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں وہیں ان کے ایک 23 سالہ بیٹے ایوان کیبوکا نے تعلیم ترک کرکے مالی طور پر ان کا ساتھ دینا کا فیصلہ کیا۔

ایوان کیبوکا کا کہنا تھا کہ میری ماں بہت زیادہ جزباتی ہیں لیکن مسلسل کام سے ان کی صحت پر اثرات پڑ رہے ہیں۔ گھر کے کاموں میں جہاں ممکن ہو ہم ان کی مدد کرتے ہیں تاہم پورے خاندان کا بوجھ ان کے کندھوں پر ہے۔

مریم کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ ان کے بس چھ بچے ہوں۔

مریم نے گھر کا نظام چلانے کے لیے بچوں میں مختلف کام تقسیم کیے ہوئے ہیں اور وہ روزانہ کوشش کرتے ہیں کہ ان کا ترتیب دیا گیا شیڈول متاثر نہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG