رسائی کے لنکس

logo-print

ماحولیاتی تبدیلیوں کے سبب سیلاب، وینس کا مستقبل خطرے میں


اٹلی کا شہر وینس اپنی نہروں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے اور شاید اسی لیے وہ ماحولیاتی تبدیلی کا شکار ہو رہا ہے۔ سمندر کی سطح میں اضافے سے وہاں بدترین سیلاب آیا ہوا ہے۔ میئر نے خبردار کیا ہے کہ شہر کا مستقبل خطرے میں ہے۔

منگل کو وینس میں پانی سمندر کی سطح سے چھ فٹ سے بھی زیادہ بلند اور 1966 کے تباہ کن سیلاب سے صرف ڈھائی انچ کم تھا۔

بدھ کو پانی کا ایک اور بڑا ریلہ آیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سمندر کی سطح میں اضافے اور شدید بارشوں کے علاوہ چودھویں کی رات اونچی لہروں کی وجہ سے بھی صورتحال خراب ہوئی۔

میئر لوئیگی برگنارو نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ وینس گھٹنوں کے بل پڑا ہے۔ کروڑوں یورو ڈوب گئے ہیں اور سینٹ مارکس گرجاگھر کو شدید نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہنگامی حالت کا اعلان کیا جائے۔

یہ تاریخ میں صرف دوسرا موقع ہے کہ پانی تمام رکاوٹیں توڑ کر گرجاگھر کے تہہ خانے میں داخل ہوگیا۔ ایک آرٹ گیلری اور ایک تھیٹر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں جبکہ پانچ فیریز سمیت ساٹھ کشتیوں کو نقصان پہنچا۔

شہر کے مرکز سینٹ مارکس اسکوائر پر سیاحوں کے سوٹ کیس پانی میں تیرتے دکھائی دیے اور لوگ گھٹنوں سے اوپر پانی میں پریشان نظر آئے۔ ہوٹلوں میں گراؤنڈ فلور پر مقیم افراد کو اوپر کی منزلوں پر منتقل کرنا پڑا۔

علاقے کے گورنر لوکا زائیا نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وینس کے قریب پہاڑوں پر شدید برفباری متوقع ہونے سے صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

قریبی ممالک کروشیا اور سلوانیہ کے ساحلی شہر بھی سمندر کی سطح بلند ہونے سے سیلابی ریلوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ سلوانیہ کے ساحلی شہروں میں پانی نصف صدی کی دوسری بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG