رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے چھ ملکوں کی جانب سے ایرانی نیٹ ورکس پر تعزیرات عائد


امریکی محکمہ خزانہ نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ حزب اللہ اور دیگر شدت پسند نیٹ ورکس کی حمایت کے معاملے پر امریکہ اور چھ دیگر ملکوں نے ایران کے 25 اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے تعزیرات عائد کر دی ہیں۔ ان اہداف میں کارپوریشنیں، بینک اور افراد شامل ہیں۔

اس بات کا اعلان اس مرکز نے کیا ہے جو دہشت گردی کی مالی اعانت کرنے والوں کو ہدف بناتا ہے، جو بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر مشتمل ہے۔

یہ تعزیرات ایسے وقت میں عائد کی گئی ہیں جب امریکی وزیر خزانہ اسٹیو منوشن مشرق وسطیٰ کا دروہ کر رہے ہیں، جس دوران وہ مصر، اردن، لبنان اور فلسطین کے لیے معاشی ترقی کے منصوبے کو حتمی شکل دیں گے۔

محکمہ خزانہ کے ایک بیان میں منوشن نے کہا ہے کہ ’’ادارے کا یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب میں دورہ مشرق وسطیٰ پر ہوں جہاں میں خطے کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ملاقاتیں کر رہا ہوں، تاکہ دہشت گردوں کی مالی اعانت کے خلاف اقدام کو تقویت دی جا سکے‘‘۔

ان تمام اہداف کی امریکہ نے پہلے ہی منظوری دے رکھی ہے۔

تاہم، چاروں کمپنیاں ایک وسیع نیٹ ورک کا حصہ ہیں جو بسیج مزاحمتی فورس کو مالی اعانت فراہم کرتی ہیں، جو ایران کے پاسداران انقلاب کی ماتحتی میں کام کرنے والی ایک ذیلی پیرا ملٹری فورس ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ ایک حربے کے طور پر، نیٹ ورک کمپنیاں بدلتا رہتا ہے، تاکہ بسیج فورس کی ملکیت کو چھپایا جا سکے۔ ایران کی آٹوموبائل، بنکنگ، دھاتوں اور کان کنی کے شعبہ جات میں بھی ایسا ہی عمل جاری رکھا جاتا تھا, تاکہ اربوں ڈالر کے کاروباری مفادات پر پردہ ڈالا جا سکے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG