رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں مداخلت کے معاملے پر امریکی وزیر دفاع کا ترکی پر اظہار برہمی


امریکی وزیر دفاع، مارک ایسپر نے سر ترکی کی جانب سے حد پار شامی کرد جنگجوؤں پر فوجی حملے کی مذمت کی ہے۔ ترکی نے یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں کی ہے جب شام سے امریکی فوجوں کے انخلا کے معاملے پر گزشتہ چار دنوں سے اختلاف رائے جاری ہے۔

برسلز میں جرمن مارشل فنڈ سے خطاب کرتے ہوئے، ایسپر نے کہا کہ ترکی کی جانب سے شام میں ’’بلاجواز‘‘ مداخلت کے نتیجے میں حالیہ برسوں حاصل کردہ کامیابی کو خطرہ لاحق ہے، ایسے میں جب امریکی قیادت کے اتحاد اور شامی کرد افواج نے داعش کے دہشت گرد گروپ کے خلاف کامیاب لڑائی لڑی ہے۔

بقول ان کے، ’’ترکی نے ہمیں پریشان کن صورت حال میں ڈال دیا ہے۔ میرے خیال میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں تھا‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’میرے خیال میں صدر اردوان مداخلت کا بہانہ ڈھونڈ رہے تھے، جب کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ ہم نیٹو کے ایک اتحادی کے خلاف لڑائی کرتے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’ترکی غلط سمت چل پڑا ہے، روس سے قربت کی جانب بڑھ رہا ہے‘‘۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ’’میرے خیال میں یہ بدقسمتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہم سب کے لیے ضروری ہے کہ ایک ساتھ مل کر چلیں اور ترکی کے ساتھ پارٹنرشپ کو مضبوط بنائیں۔ اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ مضبوط، قابل بھروسہ اتحادی بنے، ذمہ دار، جیسا کہ وہ ماضی میں رہا ہے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG