رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی نوجوانوں میں 'آئس' کا نشہ، تدارک کے لیے مربوط کوشش کی ضرورت پر زور


فائل فوٹو

پاکستان میں کچھ عرصے سے بچوں اور نوجوانوں میں ایک انتہائی مہلک نشہ 'آئس' یا 'کرسٹل میتھ' کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

وائس آف امریکہ کی ایک راؤنڈ ٹیبل میں کراچی کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے سائیکیٹری ڈپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کھین پال داس نے بتایا کہ ایک کیمیکل سے تیار کیے جانے والے اس نشے کی دوا کو سونگھ کر یا انجیکشن کے ذریعے یا پھر گولیوں کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کھین پال داس اقوام متحدہ کے ڈرگ اینڈ کرائم آفس کے نیشنل ٹرینر بھی ہیں۔ انہوں نے اس نشے کے استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ نشہ انسان کو وقتی طور پر ذہنی سکون اور جسمانی طاقت دیتا ہے جبکہ اس کے استعمال سے بے پناہ خوشی و مسرت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

آئس میتھ کے عادی افراد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ کئی کئی دن تک جاگ سکتے ہیں جبکہ انہیں لگتا ہے کہ اس دوران وہ ہر کام پر بہت توجہ دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول آئس کا نشہ کرنے والے بہت زیادہ باتیں کرتے ہیں جبکہ انہیں بہت جلدی غصہ بھی آ جاتا ہے اور ان کا رویہ پر تشدد بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن جب اس دوا کا نشہ اترتا ہے تو ان کا رویہ بالکل متضاد ہو جاتا ہے وہ بے حد کمزوری اور نقاہت محسوس کرتے ہیں۔

آئس کا نشہ کرنے والے افراد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ کئی کئی دن تک سوئے بھی رہتے ہیں جبکہ ان کو الگ تھلگ رہنا پسند ہوتا ہے۔

اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کھین پال داس کے مطابق جب تک ایک بار پھر دوا نہ لے لی جائے ان افراد کی حالت بہتر نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبہ میں اس کا استعمال اس لیے بڑھ رہا ہے کہ وہ اس دوا کے استعمال کے بعد اپنے حافظے، ذہنی اور جسمانی صلاحیت کو بہتر محسوس کرتے ہیں جبکہ امتحانات کی تیاری کے لیے کئی کئی دن تک جاگ بھی سکتے ہیں۔

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اور آئس کے استعمال پر ہونے والی ایک پی ایچ ڈی ریسرچ کے سربراہ ڈاکٹر محمد سلیم نے بتایا کہ اس دوا کا نشہ کرنے والوں کے سونے اور جاگنے کے انداز میں تبدیلی آجاتی ہے۔ ان کی آنکھ کی پتلی ساکت سی دکھائی دیتی ہے جبکہ ان کے جبڑے کی حرکت تبدیل ہو جاتی ہے جب کہ وہ ہکلاہٹ میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر کھین پال داس نے بتایا کہ اس نشے کی دوا کا زیادہ اور مسلسل استعمال انسان کے دل، دماغ اور گردوں پر اثر کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں گردے فیل ہو سکتے ہیں جبکہ امراض قلب کا شکار ہو سکتے ہیں.

آئس کے نشے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ شدید جسمانی اور ذہنی امراض میں مبتلا کر سکتا ہے جبکہ مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں زندگی بھی ختم ہو سکتی ہے۔

پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگ اس نشے کے عادی ہو رہے ہیں — فائل فوٹو
پاکستان سمیت کئی ممالک میں لوگ اس نشے کے عادی ہو رہے ہیں — فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے منشیات اور جرائم کے سد باب سے متعلق پروجیکٹ 'کولمبو پلان' کے نیشنل ٹرینر اور گورنمنٹ کالج سرگودھا کے شعبہ نفسیات کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جواد محمد شجاعت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کیوں کہ یہ ایک نیا نشہ ہے اس لیے ابھی تک اس کے علاج کا کوئی بہت مناسب انتظام موجود نہیں ہے۔

ان کے بقول حکومت نے رواں برس ہی پشاور میں آئس کے نشے سے بحالی کا 100 بستروں کا اسپتال قائم کیا ہے جب کہ بین الاقوامی طور پر اقوام متحدہ کے کولمبو پلان اور 'آئس' نامی ایک بین الاقوامی ادارے کے تحت نوجوانوں کو اس مرض سے بچانے اور بحالی کے لیے سیمینارز اور تربیتی پروگرام کا سلسلہ جاری ہے۔

اینٹی نارکوٹکس فورس کے علاج اور بحالی کے سابق پروگرام منیجر اور منشیات سے بحالی کے ایک مرکز کے ڈائریکٹر فرمان علی نے بتایا کہ آئس کے علاج کے لیے اس وقت اینٹی نارکوٹکس فورس کے تحت کراچی، اسلام آباد اور کوئٹہ میں تین اسپتال کام کر رہے ہیں۔

اس نشے کی روک تھام پر تجاویز دیتے ہوئے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے اپلائیڈ سائیکولوجی ڈپارٹمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر اصغر علی شاہ نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اور اساتذہ بچوں پر گہری نظر رکھیں۔

پروفیسر ڈاکٹر اصغر علی شاہ کلینیکل سائیکولوجسٹ اور سائیکو تھراپسٹ بھی ہیں۔ ان کے بقول طلبہ کو چاہیے کہ ادارے میں کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر انتظامیہ کو دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں اور بچوں میں اس نشے کی روک تھام کے لیے فوری اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے ورنہ آنے والے برسوں میں اس پر قابو پانا بہت مشکل ہو جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG