رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: امن بات چیت کی ناکامی کے بعد امریکہ اور طالبان حملوں میں تیزی


کابل طالبان کے ایک کے بعد عمارتوں کا ملبہ بکھرا پڑا ہے۔ خودکش حملہ آور نے ایک فوجی قافلے کو اپنا ہدف بنایا تھا۔ 25 اکتوبر 2019

سال 2019ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران افغانستان میں طالبان اور دیگر سرکش گروپوں کی جانب سے کیے گئے حملے، باقی مہینوں کے مقابلے میں دوگنا زیادہ مہلک ثابت ہوئے۔ یہ بات افغانستان میں نگرانی کے ایک اہم ادارے نے کہی ہے، جو امریکی کانگریس کو جوابدہ ہے۔

یہ دشمن کی ایما پر ہونے والے حملے تھے، جن کے نتیجے میں افغانستان کی قومی دفاعی فورسز، نیٹو اتحاد یا شہری ہلاکتیں واقع ہوئیں۔ یہ رپورٹ افغانستان کی تعمیر نو کے خصوصی امریکی انسپیکٹر جنرل (ایس آئی جی اے آر) نے جمعرات کے روز امریکی کانگریس کو پیش کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’یکم جون سے 31 اگست تک کی سہ ماہی کے دوران، دشمن کی ایما پر کیے گئے 3495 حملوں میں سے تقریباً نصف کو مؤثر رہے، جن سے افغان دفاعی فورسز، نیٹو اتحاد اور شہری ہلاکتیں وقع ہوئیں‘‘۔

مزید یہ کہ گزشتہ موسم گرما کے مقابلے میں، افغان حکومت یا اتحادی افواج کے خلاف کیے گئے حملوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’رزولوٹ سپورٹ (نیٹو مشن) نے اطلاع دی ہے کہ اسی سہ ماہی کے دوران دشمن کی ایما پر کیے گئے یہ حملے زیادہ تر ملک کے جنوب، مغرب اور شمال مغرب میں ہوئے‘‘۔

دوسری جانب، افغان سیکیورٹی فورسز نے اپنی بَری اور فضائی کارروائیوں میں اضافہ کیا۔ امریکی فضائی افواج کی سینٹرل کمان کے مطابق، امریکہ اور اتحادی افواج نے اس سال ستمبر کے مہینے میں 948 بم گرائے، جو اکتوبر 2010ء سے اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

رپورٹ میں متعلقہ ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ 2019ء میں جنوری سے ستمبر تک افغان اسپیشل سیکیورٹی فورسز نے 2531 کارروائیاں کیں، جب کہ اس سے پہلے 2018ء کے دوران کارروائیوں کی سب سے بڑی تعداد 2365 تھی۔

حالیہ ماہ کے دوران لڑائیوں میں اضافے کے نتیجے میں افغانستان میں شہری آبادی کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ادھر اقوام متحدہ کے اعانتی مشن برائے افغانستان کے مطابق، سال 2019ء کی تیسری سہ ماہی کے دوران شہری ہلاکتوں کی تعداد میں ’’غیر معمولی اضافہ‘‘ دیکھا گیا۔

ستمبر کے اوائل میں امریکہ اور طالبان کے درمیان امن بات چیت منقطع ہونے کے بعد دونوں فریقوں نے حملے تیز کر دیے ہیں۔ بیورو آف انویسٹی گیٹو جرنلزم کی ایک رپورٹ کے مطابق، ’’ستمبر میں افغانستان میں ہر روز تقریباً 40 حملے ہوئے‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG