رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار میں اچھی فصل کے لیے خواتین کی منفرد عبادت


عبادت سے جڑی روایات کے مطابق خواتین رات بھر آگ کے گرد رقص کرتے ہوئے گانے گاتی ہیں۔ اس دن مردوں کے لیے شکار کرنا بھی ممنوع ہوتا ہے۔

میانمارمیں اچھی فصل کی پیداوار کے لیے ایک منفرد اور دلچسپ عبادت کی جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اسے تہوار کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

عمومی طور پر یہ عبادت 'گونگ وانگ بونیو' کی قبائلی خواتین کرتی ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عبادت سے جڑی روایات کے مطابق خواتین رات بھر آگ کے گرد رقص کرتے ہوئے گانے گاتی ہیں۔ اس دن مردوں کے لیے شکار کرنا بھی ممنوع ہوتا ہے۔

'گونگ وانگ بونیو' بھارتی سرحد کے قریب آباد قبائل میں سے ایک ہے، ان کی زبان دیگر قبائل سے کافی الگ ہے اور یہ ایسی جگہ رہتے ہیں جہاں یا تو صرف موٹر سائیکل کے ذریعے یا پھر پیدل پہنچا جا سکتا ہے۔

قبائلی خواتین سیاہ رنگ کے ملبوسات استعمال کرتی ہیں جب کہ ان کے گلے میں نارنجی رنگ کا ایک ہار پوتا ہے۔ وہ سروں پر کھجور کے پتوں سے بنی مختلف اشیا سجائے رکھتی ہیں۔

اچھی فصل کے لیے کی جانے والی عبادت 'ستپالو شونگ' نامی گاؤں میں ہوتی ہے جس میں قبائلی خواتین مضبوطی سے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے رات بھر آگ کے گرد رقص کرتی ہیں۔

سخت سردیوں میں کی جانے والی اس عبادت کے دوران خواتین ننگے پاؤں رہتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے گاؤں کا 'جوہر' ہے اور اس عبادت سے انہیں خوشی ہوتی ہے۔

آگ کے گرد خواتین کا رقص دن کی روشنی میں ہی شروع ہو جاتا ہے اور رات بھر جاری رہتا ہے۔ اس دوران سردی کے اثر سے بچنے اور توانائی کے لیے چاول سے بنی شراب پی جاتی ہے۔

مرغ کے بانگ کے ساتھ کے بعد سورج کے طلوع ہوتے ہی رقص کرنے والی خواتین کا روایتی انداز میں خیر مقدم کیا جاتا ہے۔ ان کے لیے دن کی خوارک کے طور پر مرد سور کاٹ کر اس سے مختلف پکوان تیار کرتے ہیں۔

خواتین کے بعد رقص کے لیے کچھ ہفتوں کے فرق سے مردوں کی باری آتی ہے اور وہ بھی اسی انداز میں یہ عمل دہراتے ہیں۔

اس قبیلے کے افراد کی اکثریت زراعت کے پیشے سے جڑی ہے جو دھان، مکئی اور سبزیاں اگاتے ہیں جس کے لیے وہ علاقے میں واقع پہاڑی ڈھلانوں کو صاف کرتے ہیں اور وہاں اگے جنگلی پودوں اور جھاڑیوں کو جلا دیتے ہیں۔

وہ ہر سیزن میں اپنا ٹھکانہ تبدیلی کر لیتے ہیں اور ایک بار جس زمین پر کاشت کرتے ہیں اسے اگلے 10 سال تک یوں ہی چھوڑ دیتے ہیں تاکہ زمین کی زرخیزی دوبارہ بحال ہوسکے۔

'اے ایف پی' کے مطابق گاؤں کے 32 سالہ سربراہ ماونگ ٹارنے کہتے ہیں کہ زمین کی زرخیزی اور اچھی فصل کے لیے تہوار کے دن گانے بھی گائے جاتے ہیں جو دراصل اچھی فصل کی پیداوار کے لیے کی جانے والی ایک دعا ہے۔

سربراہ کے مطابق خواتین کے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر رقص کرنا ہمارے اتحاد کی علامت ہے۔ دائرہ یہ ظاہر کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے کہ ہمیں کوئی تقسیم نہیں کرسکتا۔

رپورٹ کے مطابق تقسیم نا ہونے کا دعویٰ کرنے کے باوجود ناگا قبائل منقسم ہیں جو میانمار اور بھارتی سرحدی علاقے میں الگ الگ رہتے ہیں۔

میانمار میں ان قبائلی افراد کی تعداد چار لاکھ کے قریب ہے جب کہ ایک اندازے کے مطابق بھارت 30 لاکھ ناگہ قبائلیوں کا مسکن ہے۔

دونوں ممالک میں بسنے والے ناگہ قبائل کے مسلح دھڑوں کی جانب سے کئی دہائیوں سے ایک علیحدہ متحدہ ناگا لینڈ کے قیام کے لیے جدوجہد جاری ہے اور آزادی کے لیے ان کے دلوں میں اب بھی تڑپ زندہ ہے۔

گاؤں کے سربراہ موانگ ٹار کے مطابق انہیں اپنی روایات کے کھوجانے کی فکر ہے اسی لیے وہ اپنے بچوں کو اس تہوار کی روایات سے آگاہ کرتے ہیں اور اس کی تربیت دیتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG