رسائی کے لنکس

logo-print

کرتار پور راہداری، بھارتی زیر انتظام کشمیر میں لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟


kartarpur sikh pakistan india

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں پاکستان کی طرف سے بھارت کے سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور راہداری کھولنے کابڑے پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں نے اسے خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان برسوں سے جاری رقابتیں ختم کرنے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

تاہم، بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی سکھ تنظیموں کے اتحاد، ’آل پارٹیز سکھ کوآرڈینیشن کمیٹی‘ کے چئیرمین، جگموہن سنگھ رینہ کا کہنا ہے "یہ ایک سماجی اور مذہبی نوعیت کا فیصلہ ہے جس میں پاکستان کے وزیرِ اعظم نے اہم کردار ادا کیا''۔

جگموہن سنگھ رینہ نے مزید کہا کہ یہ معاملہ، عمران خان کے ساتھ نوجوت سنگھ سدھو نے اٹھایا تھا۔ اس لیے، بقول ان کے، ’’ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ کرکٹ ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے۔ اگر سیاسی طور پر کرنا ہوتا تو یہ خالصتاً دو حکومتوں کے درمیان طے پاتا"۔

عمران خان اور نوجوت سنگھ سدھو
عمران خان اور نوجوت سنگھ سدھو

اس کے ساتھ ہی، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’دونوں ملکوں کو اسی طرح آپس میں پیار و محبت بانٹنا چاہیے اور لوگوں کے ایک دوسرے کے ہاں آسانی کے ساتھ آنے جانے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا چاہیے‘‘۔

جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ"میں اصل میں مظفر آباد کا رہنے والا ہوں۔ وہاں ہماری زمینیں ہیں اور آبائی گھر بھی۔ لیکن، میں وہاں نہیں جا سکتا۔ میرے وہاں آنے جانے میں کوئی دشواری پیش نہیں آنی چاہیے"۔

سکھ رہنما جگموہن سنگھ
سکھ رہنما جگموہن سنگھ

ان کا کہنا تھا کہ "دونوں ملکوں کے درمیان ایک ایسا ماحول پیدا ہونا چاہیے جس میں ہماری تعمیر و ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو، ہماری سماجی، ثقافتی اور سیاسی زندگی میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوں۔ اگر ایسا ہوجاتا ہے تو جو یہ چھوٹی باتوں پر طرفین کے درمیان تنازعے چلے آ رہے ہیں، لوگ انہیں نظر انداز کرتے جائیں گے"۔
تجزیہ نگار خورشید احمد نے کہا کہ ’’عین اُسی دن جب کرتارپور راہداری کو سکھ یاتریوں کے لیے باضابطہ طور پر کھول کر پاکستان نے فراخدلی اور مذہبی رواداری کی ایک مثال قائم کی، بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا میں بابری مسجد۔رام مندر کی اراضی کے تنازعے کے مقدمے میں زمین، مندر کی تعمیر کے لیے ہندوؤں کو دینےکا فیصلہ کیا، جو خود بعض بھارتی سیاسستدانوں اور جماعتوں کے نزدیک بھارت کو ہندو ریاست بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے‘‘۔

ایک شہری سمیر احمد اس بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "کرتارپور راہداری کھول کر دونوں ملکوں نے یہ دکھایا ہے کہ مذہب کا ملک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ ان معاملات کو سیاست اور ملکوں سے الگ رکھنا چاہیے'' ایودھیا تنازعے پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ اس کے (سپریم کورٹ) کے نزدیک ایک صحیح اور بہتر فیصلہ ہے، حالانکہ اس پر تنقید بھی کی گئی ہے۔ تاہم، ہم اس بات پر خوش ہیں کہ مذہب اور ملک کو ایک دوسرے کے ساتھ نہیں جوڑا گیا‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG