رسائی کے لنکس

logo-print

رافیل طیاروں کے معاہدے کی تحقیقات کی ضرورت نہیں: بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ


فرانس نے معاہدے کے تحت پہلا طیارہ گزشتہ ماہ بھارت کے حوالے کیا تھا۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے رافیل طیاروں کی خریداری میں گھپلوں اور بے ضابطگیوں کے الزامات کی تحقیقات کے لیے دائر نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔

بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال وزیرِ اعظم نریندر مودی کی حکومت کے فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری کے معاہدے کو کلین چٹ دے دی تھی۔

عدالتی فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواستوں پر جمعرات کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنا دیا۔ بینچ میں شامل دیگر ججز میں ایس کے کال اور کے ایم جوزف بھی شامل تھے۔

رافیل طیاروں کے معاہدے کی تحقیقات کے لیے سابق یونین وزیر یشونت سنہا سمیت متعدد فریقین کی جانب سے نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں تھیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بھارت اور فرانس کے درمیان 36 رافیل طیاروں کی خریداری کے معاہدے کی تحقیقات کی ضرورت نہیں اور نہ ہی ایف آئی آر درج کرنے کی ضرورت ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزاروں کا مقدمہ میرٹ پر پورا نہیں اُترتا۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے گزشتہ سال رافیل طیاروں کی خریداری کے لیے حکومت کو کلین چٹ دے دی تھی۔

سپریم کورٹ آف انڈیا۔
سپریم کورٹ آف انڈیا۔

راہول گاندھی کی معافی قبول

بھارت کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی رافیل طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر حکومت پر کرپشن کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔

ان الزامات پر بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن پارلیمنٹ میناکشی لیکھا نے راہول گاندھی پر ہتک عزت کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

سپریم کورٹ نے جمعرات کو اپنے فیصلے میں راہول گاندھی کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی خارج کرتے ہوئے اُنہیں آئندہ محتاط رہنے کی تنبیہ کی ہے۔

خیال رہے کہ راہول گاندھی نے رافیل طیاروں کے معاہدے پر کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'چوکیدار چور ہے'۔ تاہم، وہ اپنے اس بیان پر عدالت سے غیر مشروط معافی بھی مانگ چکے ہیں۔

رافیل معاہدے پر الزامات تھے کیا؟

بھارت کی سابق حکمراں جماعت انڈین نیشنل کانگریس کی جانب سے یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے فرانس سے 36 رافیل طیاروں کی خریداری میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی ہے۔

کانگریس کی جانب سے 59000 کروڑ بھارتی روپے کے اس معاہدے کی شفاف تحقیقات کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔ کانگریس کا یہ الزام تھا کہ نریندر مودی حکومت نے صنعت کار انیل امبانی کی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے زائد قیمت پر فرانس کی طیارہ ساز کمپنی 'ڈسالٹ' سے معاہدہ کیا۔

بھارت اور فرانس کی حکومت نے 2016 میں ان طیاروں کی خریداری کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ فرانس کی ایئر فورس نے گزشتہ ماہ پہلا طیارہ بھارت کے حوالے کیا تھا۔

فرانس نے ایک رافیل طیارہ حال ہی میں بھارت کے حوالے کیا تھا۔
فرانس نے ایک رافیل طیارہ حال ہی میں بھارت کے حوالے کیا تھا۔

بھارت کے دفاعی ماہرین پاکستان اور چین کی فضائی قوت کا مقابلہ کرنے کے لیے رافیل طیاروں کی خریداری کو اہم قرار دیتے رہے ہیں۔ ان ماہرین کے بقول، پاکستان کے پاس موجودہ ایف سولہ اور جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا مقابلہ کرنے کے لیے رافیل طیاروں کی خریداری ضروری تھی۔

رواں سال فروری میں پاکستان اور بھارت کی فضائیہ کے درمیان کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب ہونے والی ایک فضائی جھڑپ میں پاکستان ایئر فورس نے بھارت کا ایک مگ 21 طیارہ مار گرایا تھا۔

اس واقعے کے بعد بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کے پاس رافیل طیارے ہوتے تو صورتِ حال مختلف ہوتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG