رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحقیقات جاری، سابق مشیر جان بولٹن طلب


فائل فوٹو

امریکہ کے ایوانِ نمائندگان کے ڈیموکریٹ ارکان نے قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے سلسلے میں جاری تحقیقات کے لیے آئندہ ہفتے طلب کر لیا ہے۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، امریکی صدر کے مواخذے کے لیے کی جانے والی تحقیقات کے دوران کچھ افراد نے کانگریس کی متعلقہ کمیٹیوں کے سامنے گواہی دی ہے کہ جان بولٹن اس بات پر شدید پریشان تھے کہ صدر ٹرمپ کے ذاتی وکیل روڈی جولیانی یوکرائن پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کریں۔

جولیانی یوکرائن پر 2020 کے ممکنہ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جو بائیڈن کے خلاف مبینہ کرپشن کی تحقیقات پر بالخصوص زور دے رہے تھے۔

ایوانِ نمائندگان میں طلبی سے متعلق جان بولٹن کے وکیل نے کہا ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر پیش ہونے کے لیے تیار نہیں اور اگر ایوانِ نمائندگان کی کمیٹیاں انہیں بلانا چاہتی ہیں تو انہیں قانونی حکم جاری کرکے طلب کرنا ہوگا۔

صدر ٹرمپ نے قومی سلامتی کے اپنے مشیر جان بولٹن کو گزشتہ ماہ کچھ معاملات پر اختلافات کی وجہ سے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ بعض اطلاعات کے مطابق، ان میں یوکرائن کا معاملہ بھی شامل تھا۔

یاد رہے کہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی متعلقہ کمیٹیوں میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کے لیے بند کمرہ سماعت جاری ہے جن میں اب تک کئی افراد پیش ہو چکے ہیں۔

صدر ٹرمپ پر الزام ہے کہ انہوں نے رواں سال 25 جولائی کو یوکرائن کے صدر ولادی میر زیلنسکی کو فون کر کے اُنہیں سابق نائب امریکی صدر اور 2020 کے انتخابات میں اپنے ممکنہ حریف جو بائیڈن اور ان کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے کہا تھا۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ صدر ٹرمپ نے یوکرائن کی حکومت کو اس تحقیقات پر مجبور کرنے کے لیے اسے دی جانے والی امداد بھی روک لی تھی۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ اپنے خلاف جاری مواخذے کی کارروائی کو ناجائز اور انتقامی کارروائی قرار دے چکے ہیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ ان کا مواخذہ ڈیموکریٹس کا ایجنڈا ہے جو اپنے سیاسی فائدے کے لیے یوکرائن کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس بات کی شکایت بھی کی جاتی رہی ہے کہ مواخذے کی کارروائی کو عوام سے پوشیدہ رکھا جا رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحقیقات سے متعلق ری پبلکنز کے اعتراضات دور کرنے کے لیے جمعرات کو ایوانِ نمائندگان میں ایک قرارداد بھی پیش کی جا رہی ہے جس میں مواخذے سے متعلق قواعد کی از سرِ نو وضاحت کی جائے گی۔

اس قرارداد میں یہ یقین دہانی کرائی جائے گی کہ ایوانِ نمائندگان کے اقلیتی ری پبلکن ارکان کو بھی مواخذے کے سلسلے میں پیش ہونے والے گواہان سے سوالات کرنے، تحریری بیان مانگنے اور کسی بھی گواہ یا متعلقہ ریکارڈ طلب کرنے کا پورا اختیار ہوگا۔

ایوانِ نمائندگان کی ڈیموکریٹ اسپیکر نینسی پیلوسی بھی کہہ چکی ہیں کہ وہ امریکی صدر کے مواخذے کی کارروائی میں ہر طرح کے ابہام کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG