رسائی کے لنکس

logo-print

برلن: یہودیوں کے خلاف رجعت پسندانہ امتیاز سے نمٹنے کیلئے قوانین منظور


فائل فوٹو

اس ماہ کے اوائل میں یہودی عبادتگاہ پر ہونے والے حملے کے پیش نظر، جرمن چانسلر اینگلا مرخل کی کابینہ نے بدھ کے روز نئے اقدامات کی منظوری دی جن کا مقصد یہودیوں کے خلاف امتیاز برتنے اور انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی کا تدارک کرنا ہے۔

تجویز کردہ اقدامات میں اسلحہ رکھنے کے قوانین کو ٹھوس بنانا، آن لائن نفرت کے خاتمے کے لیے مقدمات قائم کرنا اور تدارک کے لیے درکار منصوبوں کے لیے مالی اعانت بڑھانا شامل ہے جن کی مدد سے یہودیوں کے خلاف امتیاز اور انتہائی دائیں بازو کی شدت پسندی کو روکا جا سکے۔

جرمن وزیر انصاف، کرسٹین لیمبرشت نے برلن میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہودی برادری کے خلاف ہیل نامی شہر میں ہونے والے خوفناک حملے کے بعد ایک بار پھر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ پر نفرت پر مبنی جذبات بھڑکانے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ ’’قانون میں دیے گئے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے، ہم رجعت پسند خیالات کی بنیاد پر کی جانے والی دہشت گردی اور یہودیوں کے خلاف امتیاز کے معاملات سے نمٹیں گے‘‘۔

نو اکتوبر کو جرمنی کے مشرقی شہر ہیل میں ایک 27 سالہ جرمن شہری کے ہاتھوں یہودی عبادتگاہ پر ناکام حملے کے صدمے کے اثرات ابھی تک نمایاں ہیں۔ حملہ آور نے دو راہگیروں کو گولی مار کر ہلاک کیا۔ حملہ آور کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس دہشت گردی سے قبل، حملہ آور نے انٹرنیٹ پر یہودیت کے خلاف نفرت آمیز باتیں شائع کیں، جبکہ ایک معروف وڈیو گیم اسٹریمنگ سائٹ کی مدد سے حملے کی کارروائی براہ راست نشر کی۔

وزیر داخلہ ہرسٹ شوفر نے بتایا ہے کہ نئی تجاویز میں انٹرنیٹ اداروں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ پولیس کو نفرت انگیز کلمات سے آگاہ کریں اور آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز پر موجود ناجائز مواد کو ڈیلیٹ کرنے کا اہتمام کریں۔

برلن سے رپورٹ میں ایسو سی ایٹڈ پریس نے بتایا ہے کہ اسلحہ رکھنے سے متعلق جرمن قوانین کو سخت کیا جائے گا تاکہ وہ سب اقدام کیے جائیں جن کی مدد سے یہ بات یقینی بنائی جائے کہ کسی طور پر بھی اسلحہ شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگے‘‘۔

حکومت اس بات کا بھی ارادہ رکھتی ہے کہ دائیں بازو کی انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی تعداد بڑھائی جائے، تاکہ بالآخر حکام کے پاس درکار عملہ اور استعداد دستیاب رہے کہ اسلام نواز دہشت گردی سے نبردآزما ہوا جا سکے۔

جرمن کابینہ کو بتایا گیا کہ دہشت گردی اور یہود دشمنی کی سوچ کے تدارک کے حوالے سے جمہوریت کے حامی شہری گروپوں کو آئندہ چار برسوں کے دوران مزید 11 کروڑ 50 لاکھ یورو (12 کروڑ 78 لاکھ ڈالر) فراہم کیے جائیں گے۔

دریں اثنا، جرمنی کی کلیدی یہودی تنظیم نے نئے اقدامات کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے، جنھیں اب پارلیمان کی منظوری درکار ہو گی۔

جرمن خبر رساں ادارے، ڈی پی اے کی ایک رپورٹ کے مطابق، جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے صدر جوزف شوسٹر نے کہا ہے کہ ’’اب وقت آ گیا ہے کہ ٹھوس اقدام کیا جائے‘‘۔

یاد رہے کہ ہیل میں یہودی عبادتگاہ پر حملے سے قبل مرکل کی جماعت کے ایک علاقائی سیاست دان، والٹر لوبک کو ہلاک کیا گیا تھا۔ لوبک نے سال 2015 میں جرمن چانسلر کے بیان کیا خیرمقدم کیا تھا جس میں مہاجرین کی آبادکاری پر زور دیا گیا تھا۔ ان کے مشتبہ حملہ آور کا تعلق دائیں بازو کے انتہاپسند گروپ سے تھا ، جو مبینہ طور پر تارکین وطن کے خلاف جرائم کی کڑی میں ملوث بتایا جاتا ہے۔

حالیہ برسوں میں یہودیوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف حملوں کے واقعات میں خاصہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اس ماہ کے اوائل میں وفاقی نوعیت کے جرائم سے متعلق پولیس فورس نے دائیں بازو کے انتہا پسند 43 افراد کی شناخت ظاہر کی تھی، جنھیں حکومت خطرے کی شدید علامت خیال کرتی ہے۔ اس سال دہشت گردی کے جرائم میں تین گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں دائیں بازو کے شدت پسندوں کی کُل تعداد 12،700 ہے، جو مبینہ طور پر ’’تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں‘‘۔

نو اکتوبر کے دہشت گرد واقعے کے بارے میں خبر رساں ادارے 'رائٹرز' نے بتایا تھا کہ حملے میں دو دہشت گرد ملوث تھے، جن میں سے کار میں بھاگ نکلنے کی کوشش کرنے والا ایک مشتبہ حملہ آور پکڑا گیا تھا۔

واقعے کے بعد تقریباً 200 افراد نے یہودی عبادتگاہ کے باہر جمع ہو کر موم بتیاں روشن کیں۔ کچھ افراد نے اسرائیلی پرچم تھام رکھے تھے۔ جرمن حکام نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا اور یہودیوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی سختی سے روک تھام پر زور دیا تھا۔ اس موقعے پر جرمن چانسلر اینگلا مرخل نے متاثرہ سناگاگ کا دورہ کیا اور ان کے ترجمان نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’’ہم یہود مخالف ہر اقدام کی مذمت کرتے ہیں‘‘۔ یاد رہے کہ جرمنی کے مشرقی علاقے میں واقع ہیلی شہر کی آبادی دو لاکھ چالیس ہزار ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG