رسائی کے لنکس

logo-print

فضائی آلودگی سے بچوں کی قوتِ مدافعت متاثر ہو رہی ہے: رپورٹ


آج کے دور میں پیدا ہونے والے بچے ماحولیاتی تبدیلی کے نقصانات سے محفوظ نہیں ہیں، بچوں کو پیدائش کے ساتھ ہی ماحولیاتی تبدیلی کے سبب صحت سے جڑے کئی مسائل اور نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج درجہ حرارت ماضی کے مقابلے بڑھ چکا ہے جس سے دنیا گرمی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دنیا میں آکر بچوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مختلف بیماریاں ان کے تعاقب میں رہتی ہیں۔

دنیا سیلابوں اور ہر سال بڑھتی گرمی کے خطرات سے دوچار ہے۔ اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آج کے دور کا ہر بچہ پیدائشی طور پر ماحولیاتی تبدیلیوں سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے، 'رائٹرز' کے مطابق، 'دی لانسیٹ' نامی میڈیکل جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے پہلے ہی انسانوں کی صحت پر برے اثرات پڑ رہے ہیں جبکہ بیماریوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ موسم کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ فضائی آلودگی سے انسانوں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر فضائی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کو کنٹرول کرنے کے لیے اب بھی کچھ نہ کیا گیا تو اس کے اثرات پوری نسل کو بیماریوں کی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ بچوں کو خطرات لاحق ہیں۔

مطالعے اور رپورٹ کو مرتب کرنے والی ٹیم کے رکن نک واٹسن کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی سے بچوں کی جسمانی نشو و نما اور قوت مدافعت کا نظام پوری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

نک واٹسن نے مزید خبردار کرتے ہوئے کہا کہ بچپن میں صحت کو پہنچنے والے نقصان کے اثرات تاحیات رہتے ہیں۔

نک نے لندن میں ایک بریفنگ کے دوران بتایا کہ گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں کمی کرنے کے لیے تمام ممالک کی جانب سے فوری اقدام کیے بغیر صحت مند دنیا کی تشکیل ناممکن ہے۔

ان کے بقول، عوامی صحت میں بہتری نہ لائی گئی تو پوری نسل بیمار ہو جائے گی۔ لہذا، اس مسئلے پر کسی سمجھوتے کی ضرورت نہیں۔

تحقیقی ٹیموں کا کہنا ہے کہ گرین ہاؤسز گیسوں کے اخراج کو محدود کرنے اور عالمی سطح پر بڑھتی حرارت کو روکنے کے لیے صرف پالیسیاں ہی متعارف ہوتی رہیں تو اس کا نتیجہ حیران کن ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، اگر ماحولیاتی تبدیلیوں کو حقیقی طور پر قابو کر لیا گیا تو آج پیدا ہونے والا بچہ برطانیہ میں کوئلے کے استعمال کو ختم ہوتا دیکھ سکے گا۔

لینسیٹ کی جانب سے کیے گئے مطالعے میں 35 اداروں کے 120 ماہرین کی تحقیق شامل ہے۔

ان ماہرین کا تعلق عالمی ادارہ صحت، ورلڈ بینک، یونیورسٹی کالج لندن اور چین کی سنگھوا یونیورسٹی سے ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ آب و ہوا کی تبدیلی سے سب سے زیادہ خطرات صحت کو لاحق ہیں۔ اچھی صحت کے لیے صاف ایندھن استعمال کرکے آلودگی سے پاک ماحول ضروری ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق، 2016 میں دنیا بھر میں فضائی آلودگی اور اس سے جڑی بیماریوں کے سبب سات لاکھ اموات ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت کا تعلق کم اور درمیانی آمدنی کے حامل ممالک سے تھا۔

معالعے میں شریک برطانیہ کی سسکس یونیورسٹی کی ماہر صحت ایب کارلسون کا کہنا ہے کہ اگر ہم اپنے بچوں کا تحفظ چاہتے ہیں تو ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہ جس فضا میں سانس لیں وہ زہریلی نہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG