رسائی کے لنکس

logo-print

آرمی چیف کے مطالبے پر بولیویا کے صدر موریلز مستعفی


اوو مورالس — فائل فوٹو

بولیویا میں چوتھی بار منتخب ہونے والے صدر ایوو موریلز نے آرمی چیف اور پولیس کے سربراہ کے مطالبے پر عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ ایک ماہ قبل ہی الیکشن میں کامیاب ہوئے تھے۔

تین ہفتوں سے جاری مظاہروں کو دیکھتے ہوئے آرمی اور پولیس کے سربراہان نے بولیویا کے صدر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔ صدر کے استعفے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد دارالحکومت لاپاز احتجاج کرنے والے افراد نے جشن منانا شروع کر دیا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق چوتھی بار صدر منتخب ہونے والے ایوو موریلز نے اتوار کے روز ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

ایوو موریلز بولیویا کے سب سے طویل عرصے تک برسر اقتدار رہنے والے صدر تھے۔ مبصرین کے مطابق ان کے مستعفی ہونے کے بعد قیادت کا خلا پیدا ہو گیا ہے۔

گزشتہ ماہ 20 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں صدر ایوو موریلز کی متنازع کامیابی کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔ جس میں تین افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔

سیکیورٹی اداروں کے علاوہ وزراء اور سرکاری عہدیداروں کی جانب سے صدر کی حمایت ترک کرنے پر صورت حال میں کشیدگی پیدا ہوئی۔

ایوو موریلز کے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد لاپاز کی سڑکوں پر جشن شروع ہوگیا جبکہ آتش بازی بھی کی گئی۔ جشن کرنے والے افراد کے ہاتھوں میں بولیویا کے جھنڈے بھی تھے۔

سابق صدر اور انتخابات میں شکست کھانے والے حزب اختلاف کے رہنما کارلوس میسا کا کہنا ہے کہ بولیویا کے لوگوں نے دنیا کو ایک سبق سکھا دیا ہے۔ کل سے ایک نیا بولیویا ہوگا۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد بننے والی صورت حال کے باعث 20 اراکین اسمبلی اور سرکاری حکام نے بولیویا میں تعینات میکسیکو کے سفیر کے گھر میں پناہ لی تھی۔

میکسیکو کی طرف سے ایوو موریلز کو بھی پناہ دینے کی پیش کش کی گئی ہے۔

مستعفی ہونے کے بعد ایوو موریلز نے ٹوئٹ میں کہا کہ ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جا چکے تھے جبکہ پولیس چیف کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔

موریلزنے مزید کہا کہ مظاہرین نے ان کے گھر پر بھی حملہ کیا۔

اتوار کو رات گئے پولیس کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ پولیس نے انتخابی عدالت کی سربراہ ماریہ یوجینیا چوک کو گرفتار کر لیا ہے۔ جن پر اپوزیشن کی طرف سے دھاندلی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ ‘آرگنائزیشن آف امریکن اسٹیٹس’ نے بولیویا کے انتخابات کی جانچ پڑتال کی تھی۔ جس کے بعد اتوار کو اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ انتخابات میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگی دیکھی گئی ہے۔

انتخابات کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو دیکھتے ہوئے صدر اوو مورالس نے نئے انتخابات کرانے کا اعلان بھی کیا تھا لیکن اس اعلان کے باوجود مظاہرے بند نہ ہوئے۔ پولیس اور آرمی کے سربراہان کی طرف سے صدر موریلز کو مستعفی ہونے کا کہا گیا۔

رپورٹس کے مطابق اب ایک متفقہ کابینہ بولیویا میں نئے انتخابات کا انعقاد کرائے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG