رسائی کے لنکس

logo-print

دیوار برلن کے انہدام کی تیسویں سالگرہ، رونلڈ ریگن کا مجسمہ آویزاں


برلن

برلن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب میں امریکی سفارت خانے کے احاطے کے اندر امریکہ کے چالیسویں صدر، رونلڈ ریگن کا مجسمہ آویزاں کیا گیا ہے۔ یہ مقام تاریخی برانڈنبرگ گیٹ کے قریب واقع ہے۔

یہ مجسمہ 'رونلڈ ریگن صدارتی فاؤنڈیشن' اور منصوبے کے دیگر حامیوں کی مدد سے تیار کیا گیا۔ کئی برسوں سے فاؤنڈیشن یہ کوشش کر رہی تھی کہ برلن شہر کے کسی مقبول مقام پر یہ مجسمہ نصب کیا جائے۔

وہ برلن شہر کے حکام پر زور دیتے رہے ہیں کہ اس بات کی اجازت دی جائے۔ تاہم، برلن شہر کے اہل کاروں کا کہنا تھا کہ نو نومبر، 1989ء میں دیوار برلن کے انہدام کے معاملے میں کئی عناصر اور متعدد شخصیات کا کردار تھا۔

آخر کار ریگن کے حامیوں نے یہ مجسمہ برلن کے وسطی علاقے میں واقع امریکی سفارت خانے کے میدان میں نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔

جمعے کو منعقد ہونے والی اس تقریب میں، امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے شرکت کی۔ انھوں نے تقریب کو ''سنگ میل لمحہ'' قرار دیا۔ سال 1987ء میں ریگن نے خطاب کیا تھا جس میں انھوں نے اس وقت کے سویت صدر میخائل گورباچیف پر زور دیا تھا کہ ''دیوار کو گرا دیا جائے''۔

دو برس بعد، دیوار منہدم ہونا شروع ہوئی، جسے براہ راست ٹیلی ویژن پر دکھایا جاتا رہا۔

مشرقی جرمنی کے اہل کاروں کی جانب سے اس بات کا اچانک اعلان کہ فوری طور پر مغربی جرمنی جانے کی اجازت دی جائے گی، برلن کے باسیوں نے ہتھوڑے لے کو اپنے ہاتھوں سے دیوار کو مسمار کرنا شروع کیا۔

ہفتے کو دیوار برلن کے انہدام کی تیسویں سالگرہ منائی گئی، جسے مشرقی یورپ میں کمیونزم کی شکست کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اس موقع پر برناس اسٹراز میں ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں جرمنی، پولینڈ، ہنگری، سلوواکیہ اور جمہویہ چیک کے سربراہان شریک ہوئے، جہاں دیوار برلن کا ایک حصہ ابھی تک موجود ہے۔

انھوں نے وہاں گلاب کے گلدستے رکھے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں 28 برس تک شہر کو منقسم رکھا گیا اور جہاں خوف و ہراس کا عالم برپا ہوا کرتا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG