رسائی کے لنکس

logo-print

افغان صدر اور چینیِ وزیر خارجہ کا رابطہ، بین الافغان مذاکرات پر تبادلۂ خیال


فائل فوٹو

افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں ہونے والے متوقع بین الافغان مذاکرات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

افغانستان کے صدر کے دفتر کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق، صدر غنی اور چین کے وزیر خارجہ وانگ ای کے درمیان پیر کی شب ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت میں افغان صدارتی انتخاب، افغان امن عمل دو طرفہ تعلقات اور چین میں ہونے والے بین الافغان امن مذاکرات کے بارے میں گفتگو کی گئی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ چین اور افغانستان قیام امن کی ان کوششوں کو سراہتے ہیں جن میں افغان عوام اور حکومت کا کلیدی کردار ہو گا۔

وائس آف امریکہ افغان سروس کے مطابق، بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مذاکرات سات نومبر کو ہوں گے۔ تاہم، سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

بین الافغان امن مذاکرات ایک ایسے وقت ہوں گے جب امریکہ اور طالبان کے امن مذاکرات معطل ہیں۔ لیکن افغانستان میں قیام امن کی کوششیں بھی جاری ہیں۔

افغان امور کے ماہر اور صحافی طاہر خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ بین الافغان مذاکرات تمام اسٹیک ہولڈرز کی توجہ کا محور ہیں۔ ان کے بقول، یہ مذاکرات افغانستان کے سیاسی مستقبل کا تعین کریں گے۔ طاہر خان کہتے ہیں کہ افغان حکومت کی جانب سے بین الافغان مذاکرات کے لیے مذاکراتی ٹیم تشکیل دینا اس بات کی عکاسی ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہیں۔

طاہر خان کے بقول، بیجنگ میں ہونے والے ممکنہ بین الافغان مذاکرات سے پہلے یا بعد میں ایسے اقدامات ضروری ہیں جس سے فریقین کا اعتماد بحال ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان جنگ بندی پر آمادہ نہیں اور یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بین الافغان مذاکرات گزشتہ ماہ چین میں ہی طے تھے۔ افغان طالبان کے وفد نے بھی ان میں شرکت کی تصدیق کر دی تھی۔ تاہم، افغان حکومت کی درخواست پر یہ مذاکرات ملتوی کر دیے گئے تھے۔

اس سے قبل، رواں سال جولائی میں قطر کے دارالحکومت دوحا میں جرمنی اور قطر کی مشترکہ میزبانی میں بین الافغان مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات میں افغانستان کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تھی۔

چین کی طرف سے بیجنگ میں ہونے والے متوقع بین الافغان امن مذاکرات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔ البتہ، امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد افغان امن کوششوں کے سلسلے میں ایک بار پھر متحرک ہیں۔

خلیل زاد نے افغانستان میں امن و مصالحت کی کوششوں کے سلسلے میں گزشتہ ماہ بیلجیم، روس، پاکستان اور افغانستان کا بھی دورہ کیا تھا۔ خلیل زاد نے اکتوبر کے آخری ہفتے میں افغانستان کا بھی دورہ کیا تھا۔

دورے کے اختتام پر امریکہ کے محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق خلیل زاد نے کہا تھا کہ امریکہ افغانستان میں جنگ کے خاتمے کے لیے افغان تنازع کے سیاسی تصیفے کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن کے حصول کے لیے تشدد میں کمی ضروری ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ستمبر میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کر دیے گئے تھے، جس کے بعد افغانستان میں تشدد کے واقعات میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق، رواں سال افغانستان میں شہری ہلاکتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مذاکرات معطل کرتے ہوئے یہ عذر پیش کیا تھا کہ طالبان ایک جانب مذاکرات جب کہ دوسری جانب پرتشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان کا یہ موقف رہا ہے کہ جب تک امریکہ اور اس کی اتحادی افواج افغانستان سے نکل نہیں جاتیں اس وقت تک وہ جنگ بندی نہیں کریں گے۔ طالبان یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ شہری آبادی کی بجائے امریکی اور افغان فورسز کی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG