رسائی کے لنکس

logo-print

عابد علی کی تاریخی اننگ: پیسے وصول ہو گئے


عابد علی

عابد علی کی راولپنڈی ٹیسٹ میں تاریخ ساز اننگ پر سابق کھلاڑی اور کرکٹ کے پنڈت ان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ بارش سے بری طرح متاثرہ بے جان میچ کے آخری روز کا کھیل جب شروع ہوا تو کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا کہ یہ میچ کرکٹ کی تاریخ کے ایک بڑے نوٹ پر ختم ہو گا۔

ایک روزہ میچوں میں اپنے پہلے ہی میچ میں سنچری سکور کرنے والے عابد علی نے اپنی پہلی ٹیسٹ اننگ میں بھی سنچری بنا ڈالی جس کے بعد وہ کرکٹ کی تاریخ کے ایک منفرد ریکارڈ بنانے والے کرکٹر بن گئے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر اور سپیڈ سٹار شعیب اختر نے عابد علی کو کرکٹ کی دنیا کا نیل آرم سٹرانگ قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے بقول اب بھلے کوئی یہ ریکارڈ برابر کرے عابد علی سے کوئی یہ اعزاز چھین نہیں سکتے کہ وہ دنیا کے پہلے کھلاڑی تھے جنہوں نے یہ ریکارڈ قائم کیا تھا۔ جس طرح اب ساری دنیا چاند پر چلی جائے، نیل آرم سٹرانگ کو چاند پر قدم رکھنے والے پہلے انسان کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔

پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی دس سال کے بعد بحالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے شاہ فیصل امریکہ سے پاکستان پہنچے ہیں۔ وہ پروفیشنل کرکٹ کمنٹیٹر ہیں اور ریڈیو پاکستان کے لیے اس میچ پر بھی کمنٹری کر رہے تھے۔ وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ عابد علی نے کمال کر دیا۔

’’ تین روز تک بارش سے متاثر ہونے والے کھیل کا پہلا اور آخری دن شاندار تھا۔ یادگار تھا کہ دونوں جڑوان شہروں میں ایک ماحول تھا جس میں کرکٹ رچی بسی تھی۔ دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی پاکستان میں واپسی ہوئی تھی۔ کھیل کے آخری دن عابد علی نے جس انداز میں ریکارڈ قائم کیا اور بابراعظم نے جتنی خوبصورت اننگ تراشی، جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ بس سمجھیں کہ پاکستان جانے کے پیسے وصول ہو گئے۔‘‘

عابد علی سیجنری کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔
عابد علی سیجنری کرنے کے بعد خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

سابق کپتان اور اپنے وقت کے عظیم بلے باز ظہیر عباس نے دنیا جن کو ایشیا کے ڈان بریڈ مین کے طور پر جانتی ہے، وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں عابد علی کی پرفارمنس کو سراہا

’’ سنچریاں بہت اہم ہوتی ہیں اور دونوں فارمیٹس میں اپنے ڈیبیو میں سنچریاں ظاہر کرتی ہیں کہ عابد علی ہر طرح کی کرکٹ کھیل سکتے ہیں۔‘‘

سابق وکٹ کیپر بلے باز سلیم یوسف نے وائس آف امریکہ کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ عابد علی اور بابر علی نے راولپنڈی کو شاندار بنا دیا۔ بہت اچھی بات ہے کہ عابد علی نے ایسی اننگ کھیلی جس کے بعد ہمارا یہ یقین گہرا ہو گیا ہے کہ پاکستان میں غیر معمولی ٹیلنٹ ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اگرچہ عابد علی دیر سے بین الاقوامی کرکٹ میں آئے ہیں، مگر درست آئے ہیں۔

’’ پاکستان ٹیم میں آنا بہت بڑی بات ہوتی ہے۔ دیر سویر کی بات نہیں، جب بھی ٹیم میں آئیں، کرکٹ کو انجوائے کریں اور دل سے کھیلیں ، پرفارم کریں۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ میں عام طور پر کرکٹر کچھ دیر سے آتے ہیں۔ جلدی آنے کا نقصان بھی ہوتا ہے۔ لڑکے میچور نہیں ہوتے اور دباؤ نہیں لے سکتے اور باہر ہو جاتے ہیں، بہت سی ایسی مثالیں موجود ہیں۔ جب میچور ہو کر آتے ہیں تو فرسٹ کلاس کا بڑا تجربہ ساتھ ہوتا ہے اور عابد علی کے پاس فرسٹ کلاس کا بڑا تجربہ ہے۔‘‘

ایک روزہ کرکٹ میں پہلی ہیٹرک بنانے کا منفرد ریکارڈ رکھنے والے سابق ٹیسٹ کرکٹر جلال الدین کہتے ہیں ایسا کوئی اعزاز بہت شاندار احساس دلاتا ہے جو اس سے پہلے کبھی کسی نے حاصل نہ کیا ہو۔ بعد میں بھلے ریکارڈ بنتے رہیں، ٹوٹتے رہیں پہلی بار کوئی چیز کر دکھانے کا لطف ہی الگ ہے۔

’’ عابد علی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ غیر معمولی کرکٹر ہے۔ اس نے ورلڈ ریکارڈ بنایا اور خود کو منوایا، یہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں سلیکشن کے کا معیار اچھا نہیں ہے۔ عابد علی کو بہت پہلے موقع مل جانا چاہیے تھا، یہ سیلیکشن کے معیار کے لیے ایک تمانچہ ہے کہ ایک کھلاڑی جو اتنی شاندار کرکٹ کھیل رہا تھا، اس کو اس قدر دیر سے موقع دیا گیا اور اس نے ثابت کر دیا کہ وہ اہل کھلاڑی تھا‘

عابد علی اپنی کارکردگی کو مستقل کلاس میں کیسے ڈھال سکتے ہیں، اس بارے میں ظہیر عباس کہتے ہیں، ’’ کرکٹر اپنی کلاس خود بناتا ہے، محنت سے، لگن سے۔ عابد نے جس طرح ایک روزہ میچ اور ٹیسٹ میں یکے بعد دیگرے سنچریاں سکور کی ہیں، اس کو چاہیے کہ محنت کرتا رہے، محنت کو نہ چھوڑے اور یہ محنت ہی اس کو کلاس دے گی‘‘

وہ کہتے ہیں پاکستان کو اچھے بلے بازوں کی ضرورت ہے، عابد علی کے لیے دعا ہے کہ وہ سنچریوں پر سنچری کرے۔

’’ اگر آپ کا نام ہو گیا ہے تو اس کو قائم رکھیں، ضائع نہ کریں، محنت جاری رکھیں تاکہ آپ کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے‘۔‘

سلیم یوسف بھی کہتے ہیں کہ کلاس کو نکھارنے میں لڑکے کی اپنی محنت ہوتی ہے۔ پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے۔ ان کو کوچنگ کی نہیں تھورٹی کی پالشنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم چونکہ سڑکوں گلیوں سے کرکٹ کھیلتے آتے ہیں، تھوڑا سی فائن ٹیوننگ چاہیے ہوتی ہے اور عابد علی کے پاس یہ مواقع موجود ہیں۔‘‘

جلال الدین کہتے ہیں کہ پہلی چیز ٹیلنٹ ہوتی ہے جو عابد علی نے ثابت کر دی ہے۔ پھر مستقل مزاجی سے پرفارم کرنا اور پراعتماد ہونا اہم ہے۔ اب جب یہ مختلف ٹیموں کے خلاف کھیلیں گے ان کو کچھ چیزیں سیکھنا ہوں گی، کچھ چھوڑنا ہوں گی، اسی طرح یہ خود کو ٹاپ کلاس بنا سکتے ہینَ انہوں نے انڈر پریشر پرفارم کیا اور ثابت کیا کہ وہ کوالٹی پلیئر بن سکتے ہیں بس ان کو مختلف کنڈیشن میں کھیلنے کا ہنر سیکھنا ہو گا‘‘

شاہ فیصل کہتے ہیں کہ عابد علی کو اپنی کلاس بنانے کے لیے اپنی تکنیک پر کام کرنا ہو گا۔

’’ انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلا سال مشکل ہوتا ہے، دوسرا سال اس سے بھی زیادہ مشکل کہ دوسری ٹیمیں آپ پر ہوم ورک کر لیتی ہیں۔ فخر امام اس کی بہترین مثال ہیں۔ پہلا سال تو ان کا ٹھیک گیا، اس کے بعد سے وہ مشکلات سے دوچار ہیں۔ ‘‘

عابد علی اننگ کا نروس آغاز کرتے ہیں۔ وہ بال پر پورا نہیں آتے، ان کا پچھلا پاوں ڈرائیو کے دوران پیچھے نکل جاتا ہے۔ سسٹم کو عابد علی کو سپورٹ کرنا ہو گا۔ انٹرنیشنل کرکٹ میں جب تک کوئی بڑے سے بڑا کھلاڑی اپنے کھیل میں جدت اور بہتری نہیں لاتا، اپنی کلاس بنا نہیں سکتا۔ پاکستان کے کوچز اور سٹاف کو عابد پر کام کرنا چاہیے۔ ‘‘

عابد علی نے 32 سال کی عمر میں پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا ہے۔ اور مہمان ٹیم سری لنکا کے خلاف راولپنڈی ٹیسٹ کے آخری دن سنچری بنا کر منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس سے قبل اسی سال عابد علی نے ایک روزہ میچوں میں ڈیبیو آسٹریلیا کے خلاف کیا تھا اور پہلے ہی میچ میں سنچری سکور کی تھی۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں عابد علی نے 18 سنچریاں اور 31 نصف سنچریوں کی مدد سے 7 ہزار 7 رنز بنا رکھے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG